One of the most talked-about Pakistani dramas of 2024, "Mehshar" has gained massive popularity. Fans are eager to watch Mehshar drama online and follow its latest episodes. The Mehshar drama cast delivers outstanding performances, making it a must-watch. Curious about the Mehshar drama OST, complete story, or reviews? We’ve got all the details! Stay informed about Mehshar drama timings, schedule, and where to stream it legally. Is Mehshar drama a blockbuster or a flop? Get the full scoop here!
منظر 1: (آئمہ اور اسد کی گفتگو)
آئمہ: تمہیں صرف اتنا جاننے کی ضرورت ہے کہ میں جا رہی ہوں۔
اسد (طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ):
اچھا، یہ تو بڑی خوشخبری ہے! لیکن اس
حویلی اور جائیداد کا کیا کرو گی؟
(وقفہ، پھر دلچسپی لیتے ہوئے)
کیا تم انہیں بیچنے کا ارادہ رکھتی
ہو؟ اگر ایسا ہے تو ایک کام کرو، یہ ہمیں بیچ دو۔
بچپن سے ہی مجھے یہ حویلی بہت پسند
ہے۔ جو قیمت مانگو گی، میں دینے کو تیار ہوں۔ اس بارے میں سوچ لینا، ٹھیک؟
منظر 2: (عبداللہ اور اس کی ماں کی بات چیت)
عبداللہ: دیکھو! ابو نے میرے لیے کتنے تحفے بھیجے ہیں!
ماں: واقعی؟ تمہارے ابو نے یہ بھیجے ہیں؟
عبداللہ: ہاں! میں ان کے دوست کے پاس گئی تھی یہ لینے۔
(تھوڑی دیر رک کر)
لیکن زہرہ باجی نے کہا تھا کہ آپ
ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں۔
ماں (ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ):
میں بالکل ٹھیک ہوں، میرے بچے۔ اور
زہرہ کی باتوں کو دل پر مت لو، وہ تو مذاق کر رہی تھی۔
(عبداللہ تحفے کھولنے میں مصروف ہو
جاتا ہے، ماں ایک گہری سانس لیتی ہے)
منظر 3: (آئمہ اور اسد کی تلخ بات چیت)
اسد (غصے میں):
جانتی ہو، آئمہ، میں تم سے سب سے
زیادہ کس چیز سے نفرت کرتا ہوں؟
(تھوڑا رکتا ہے، پھر طنزیہ مسکراہٹ کے
ساتھ) سب کچھ! تمہارا وجود، تمہاری سانسیں، سب کچھ!
(لہجے میں زہر گھل جاتا ہے)
تم جانتی ہو، مجھے سکون کب ملے گا؟
آئمہ (پرسکون مگر مضبوط لہجے میں):
کب؟
اسد: جب تم ہمیشہ کے لیے ہماری زندگی سے چلی جاؤ گی!
آئمہ (سرد لہجے میں):
پھر خوش ہو جاؤ، میں جا رہی ہوں۔
اسد (چونک کر):
واقعی؟ کہاں جا رہی ہو؟ اپنے شوہر کے
پاس؟
آئمہ: یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔ بس اتنا جان لو کہ میں جا رہی ہوں۔
منظر 4: (احمر کی پاکستان آمد اور دوستوں سے ملاقات)
میر (جذباتی لہجے میں):
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ احمر ہم سے
ملنے پاکستان آ رہا ہے!
(جواب کا انتظار کیے بغیر)
میں بہت خوش ہوں! اس کا جہاز کسی بھی
وقت لینڈ کرنے والا ہے۔
دوسرا دوست (مسکراتے ہوئے):
جب اپنی آنکھوں سے دیکھو گے، تب یقین
آئے گا۔
(دونوں ہنستے ہیں)
احمر (گھر میں داخل ہوتے ہوئے،
خوشگوار لہجے میں): واہ! واہ! گھر تو کمال کا لگ رہا ہے!
میر (ہنستے ہوئے):
سب میری وجہ سے ہے!
احمر (مزاحیہ انداز میں):
ناممکن! میں مان ہی نہیں سکتا کہ
ہمارا "گودزیلا" اتنا ہنر مند ہو سکتا ہے!
تیسرا دوست (ہنستے ہوئے):
یہ پاکستان ہے دوست! یہاں ہر کام کے
لیے نوکر مل جاتے ہیں۔ بس حکم دو اور کام ہو جاتا ہے!
ہنسی کی گونج کے ساتھ منظر ختم ہوتا
ہے
منظر 5: (آئمہ اور مانی کی سنجیدہ گفتگو)
مانی (فکرمند لہجے میں):
تمہاری رپورٹز آئیں؟
آئمہ (پرسکون مگر اداس لہجے میں):
ہاں، آج لے لوں گی۔
مانی: چاہو تو میں لے آؤں؟
آئمہ (سخت لہجے میں):
نہیں، میں اپنے معاملات خود سنبھالنے
کی عادی ہوں۔
مانی (نرمی سے):
کبھی کبھی تم مجھے پتھر کی بنی عورت
لگتی ہو۔
آئمہ (تلخ مسکراہٹ کے ساتھ):
جو لوگ پتھروں سے سر ٹکراتے ہیں،
انہیں پاگل کہتے ہیں۔ اور جو پتھروں کے آگے جھک جائیں، انہیں بے ایمان۔
مانی (سنجیدہ):
ابھی بھی وقت ہے، سوچ لو۔ میں تمہارا
دوست ہوں، اور آسانی سے ہار ماننے والا نہیں ہوں
0 Comments